Home  |  About Punjabics  |  Aims & Objectives  |  Photo Gallery  |  Opinion  |  Sindhi  |  Contact Us  |  Punjabic Forum  |  Gurmukhi

غیر پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا شرمناک اور استحصالی کردار

تحریر : نذیر کہوٹ

Jang Canada

 

پاکستان کا غیر پنجابی اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ساری دنیا میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسی نہ کسی اردو ٹی وی چینل یا اردو اخبارات و رسائل کے صفحات پر پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت اور شر انگریزی پر مبنی کوئی ٹاک شو،کوئی مضمون،کوئی کالم یا کوئی لیٹر ٹو ایڈیٹر موجود نہ ہوتا ہو۔اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پنجاب کی تقسیم اور سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے عرصئہ دراز سے ایک بھرپور مہم چلا رہا ہے ۔اور جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے نفرتوں پر مبنی پروپگینڈہ کے ذریعے پنجاب کی سا لمیت اور یکجہتی پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔کیوں کہ پنجاب کی تقسیم اور سرائیکی صوبہ کے قیام کے بغیر سندھ تقسیم نہیں ہو سکتا اور کراچی الگ صوبہ یا اردو دیش الگ ملک نہیں بن سکتا ۔اس لئے یہ غیر پنجابی میڈیا اپنے دیرینہ نسلی اور لسانی عزائم کی تکمیل کے لئے مسلسل پنجاب کی سا لمیت پر حملے کر رہا ہے ۔ نفرتوں کے اس گھنائونے کاروبار میں تازہ اضافہ اور مثال کینیڈا سے شائع ہونے والے ایک اردو ہفت روزہ اخبارجنگ مورخہ 18 اگست 2010کی شائع شدہ خبر ہے ۔جس نے بلوچستان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے 16 نہتے اور بے گناہ پنجابیوں کی شہادت کی خبر کی سرخی یوں جمائی ہے۔

’’بلوچوں کا پنجابیوں سے سخت نفرت کا ثبوت‘‘

یوں محسوس ہوتا ہے گویا اس افسوسناک خبر کی آڑ میں یہ سرخی لگا کر اس اردو اخبار نے در حقیقت اپنے دل میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف چھپے اپنے کینے،بغض،نفرت اور تعصب کا اظہار اور ثبوت کھلے عام دیا ہے۔ اردو اخبار کی یہ اینگلنگ پنجابیوں کو بلوچوں کے خلاف بھڑکانے کی ایک مذموم او رپنجابیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی ایک دا نستہ کوشش ہے ۔دنیا بھر کے پنجابی اردو اخبار کی اس متعصبانہ ، شرمناک اور نفرت انگیز شرانگیزی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پنجاب اور پنجابیوں سے خدا واسطے بغض اور بیر ہے۔ جو اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کے لئے رائے عامہ کو ان کے خلاف گمراہ کر رہا ہے، بھڑکا رہاہے اور حقائق کو مسخ بھی کر رہا ہے ۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ،لیکن بلوچستان میں پنجابیوں کی نہ ختم ہونے والی ٹارگٹ کلنگ پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔کوئی ٹی وی چینل یا اینکر پرسن پنجابیوں کے اس بہیمانہ قتل عام پر پروگرام نہیں کرتا ،کوی کالم نگار اس درندگی پر کالم نہیں لکھتا اور کوئی اخبار اس پر اداریہ شائع نہیں کرتا۔ساتھ ہی کسی بے شرم اور بے ضمیر پنجابی سیاستدان کو اس پر ایک لفظ کہنے کی جرائت نہیں ہوتی۔

پنجابیوں کا خون اس قدر سستا نہیں دنیا نے جس قدر سمجھ لیا ہے ۔ لاہور اور کراچی سے شائع ہونے والے کسی اردو اور کالم نگار کو پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ نظر نہیں آتی ۔پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی بلوچستان میں عرصہ دراز سے جاری ہے۔مگر اس میڈیا کا یہ اشو نہیں اگر اس کا اشو ہے تو وہ پنجاب کی تقسیم ہے ۔ ہر وقت کسی نہ کسی جینل پر پنجاب یا پنجابیوں کو گالی دی جا رہی ہوتی ہے ۔۔ پنجاب اور پنجابی کے حوالے سے غیر پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا شرمناک اور استحصالی کردار اب کھل کرسامنے آ گیا ہے۔پنجاب کی سا لمیت اور پنجابی قوم کے اس بدترین دشمن اردو پرنٹ اور ا لیکٹرانک میڈیا کا وجود پنجابیوں کو پنجاب کی دھرتی پر اب ایک ناگوار بوجھ محسوس ہو رہا ہے ۔اور جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں۔

پنجاب کی بقا اور سا لمیت اور یکجہتی کے لئے پنجابی زبان کا صد فی صد پرنٹ اوری الیکٹرانک میڈیا اب ناگزیر ہو چکا ہے ۔کوئی غیر زبان کا میڈیا کبھی بھی پنجاب اور پنجابیوں کا نمائندہ نہیں ہو سکتا۔ نہیں ہوسکتا۔اسے جب بھی موقع ملے گا یہ اپنے مخالف نسلی و لسانی گروہ کی پیٹھ میں ضرور چھرا گھونپے گا۔پنجاب کی تقسیم کے لئے اردو پرنٹ اور میڈیا پر جاری غلیظ مہم اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

بہتر ہوگا اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پنجاب سے فوری اور مکمل طور پر نکل جائے۔پنجاب اور پنجابیوں کو ایسے غیر پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ضرورت نہیں جو دنیا بھر میں ان کے خلاف نفرتیں اور تعصب پھیلا رہا ہو۔ ان کی دھرتی پر ان کے سرمائے سے ان کا خون پی کر پل بھی رہا ہو۔پنجاب کی سا لمیت اور بقا کا ایک نمبر کا دشمن بھی ہو۔ پنجابی زبان کا استحصال کر رہا ہوْجس کی پنجاب میں موجودگی کی وجہ سے پنجابی زبان کا وجود ختم ہو رہا ہو۔پنجابیوں ری زبان چھن رہی ہو۔ اور اس کا آئینی،قانونی اور پیدائشی حق بھی غصب ہو رہا ہو۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی مخصوص زبان سے تعلق رکھنے والا پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا ہمیشہ اپنے اس نسلی و لسانی گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کریگا ۔ جسکی مادرزی زبان وہ استمال کر رہا ہو گا۔خواہ وہ کتنا ہی آزاد،روشن خیال اور جمہوریت پسند کیوں نہ ہو۔ غیر زبان کا میڈیاہمیشہ اپنے ہم زبانوں کے مخالف نسلی ولسانی گروہ کو زک پہنچانے اور اسے تباہ و بربا د کرنے لئے ہر ہتھکنڈہ استمال کرے گا۔او ر اس کا پہلا ہتھیار اپنے مخالف کے خلاف کبھی نہ ختم ہونے والی پروپیگینڈہ کی جنگ ہوتی ہے۔

اس لئے وقت آ گیا ہے کہ پنجاب میں صد فیصد پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا قیام عمل میں لایا جائے۔کیوں کہ غیر پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف اپنے خون میں نفرت ،تعصب،بغض اور شتر کینہ رکھتا ہے۔جس کہ ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں مگرتازہ ترین مثال ہے:’بلوچوں کا پنجابیوں سے سخت نفرت کا ثبوت‘ کی سرخی ایک انتہائی چھوٹی سی مثال ہے۔

پنجابیوں کو اردو میڈیا کا پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت کا اور کون سا بڑاثبوت چاہئے۔ اور اگر چاہئے تو پھر جیو پر سلیم صافی کے جرگا میں چاروں صوبوں سے لوگوں کو بلا کر پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دلوانے والا غلیظ اور نفرت بھرا پروگرام ضرور دیکھ لیں۔ پنجاب اور پنجابیوں سے نفت پر مبنی اس طرح کے پروگرام سارے اردو چینل ہر وقت نشر کرتے رہتے ہیں ۔سلیم صافی کے پروگرام میں جنوبی پنجاب کا ایک غیر مقامی، قبضہ گیر اور سیٹلر بلوچ شاعر اپنے آپ کو سرائیکی قرارد دے کر اسیں قیدی تخت لہور دے کا زہر اگلتاہے ۔کُوڑے دے مونہہ وچ دھوڑ۔ بلوچستان سے پنجاب میں آکر بس جانے والا سرائیکی بولنے والا بلوچ پنجاب کے علاقے پر دعوے دار۔پہلے آدھا بلوچستان پشتونوں سے تو خالی کروا لے۔

پنجاب کا بلوچ سیٹلر اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی پشت پناہی سے جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ بنا کر پاکستان توڑنا اور پنجاب کی دھرتی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔بلوچستان کا بلوچ بی ایل اے کے ذریعے پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہا ہے اور پاکستان کو توڑ کر بلوچستان کو الگ ملک بنانا چاہتا ہے۔سندھ کا بلوچ مگسی فورس بنا کر پنجاب سے سندھ اور بلوچستان جانے والے گندم اور آٹے سے بھرے ٹرکوں اور ٹرالروں کی ناکہ بندی کر کے اور گن پوئنٹ پر چھین کر پنجاب کومعاشی طور پر تباہ کرنا چاہتا ہے ۔بلوچ کمال کا کھیل کھیل رہا ہے۔
-پنجابیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے بلوچ کے حقوق کے لئے پنجاب میں رائے عامہ کو ہموار کرنا اب ایک ناممکن سا کام لگتا ہے ۔کیوں کہ بلوچستان میں پنجابیوں کی ٹارگت کلنگ پر پنجاب میں رد عمل میں پیدا ہو رہا ہے ۔ ا یسے میں جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ کے لئے پنجاب اسمبلی میں شور مچانے اور اچھل کود کرنے والے جنوبی پنجاب کے بلوچ سیٹلرکا وجود اب پنجاب میں سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔کہ ایک غیر مقامی بلوچ سیٹلر کس دیدہ دلیری سے پنجاب کے ٹکڑے کرنے اور اپنے لئے صوبہ مانگنے کی جراء ت کر رہا ہے ۔اس کی حرکتوں پر اب پنجاب میں انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں۔پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت انگیز اور شرمناک مہم جو غیر پنجابی میڈیا کے ذریعے جاری ہے ۔اوپر سے پنجابیوںکی ٹارگٹ کلنگ سب پنجاب اور پنجابی دشمن غیر پنجابی پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کی ساٹھ سالہ پر خلوص اورسنجیدہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔پنجابیو اپنی ماں بولی کے قاتلو کچھ شرم کرو۔بلوچستان میں قتل ہونے والے پنجابیوں کا لہو پنجابی زبان کا استحصال کرنے والے اردو پرست پنجابی دانشوروں ،ادیبوں،سٹبلشمنٹ اور پنجابی لیڈروں کے سر ہے۔

 

Thursday,19 August ,2010

Back to Top        Back to Awaz-e-Punjab Section

 

Punjabics is a literary, non-profit and non-political, non-affiliated organization funded from individual membership and contribution

Punjabics.com 2010 All Rights Reserved      Website Design & SEO by The Best SEO Company Pakistan